بھگوان کرشن کے چرنوں میں شردھا کے پھول چڑھانے کو
اک پریم پجاری آیا ہے چرنوں میں دھیان لگانے کو
بھگوان تمہاری مورت پر شردھا کے پھول چڑھانے کو
وہ پریم کا طوفاں دل میں اٹھا کہ ضبط کا یارا ہی نہ رہا
آنکھوں میں اشک امنڈ آئے پریمی کا حال بتانے کو
تم نند کو نین کے تارے ہو تم دین دکھی کے سہارے ہو
تم ننگے پیروں ڈھانے ہو بھگتوں کا مان بڑھانے کو
آنکھوں سے خون ٹپکتا ہے سینہ پر خنجر چلتا ہے
من موہن جلد خبر لینا دینوں کی جان بچانے کو
فرقت میں تمہاری قلب کے ٹکڑے آنکھوں سے بہہ جاتے ہیں
اے کرشن مراری آؤ بھی راتوں کو دھیر بندھانے کو
پھر سانولی چھب دکھلا دو ذرا پھر پریم کا رنگ جما دو ذرا
گوکل میں شیام نکل آؤ مرلی کی ٹیر سنانے کو
اپدیش دھرم کا دے کر پھر بلوان بنا دو بھگتوں کو
اے موہن جلد زباں کھولو گیتا کے راز بتانے کو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.