بھگوان کرشن کے چرنوں میں شردھا کے پھول چڑھانے کو

آفتاب رئیس پانی پتی

بھگوان کرشن کے چرنوں میں شردھا کے پھول چڑھانے کو

آفتاب رئیس پانی پتی

MORE BYآفتاب رئیس پانی پتی

    اک پریم پجاری آیا ہے چرنوں میں دھیان لگانے کو

    بھگوان تمہاری مورت پر شردھا کے پھول چڑھانے کو

    وہ پریم کا طوفاں دل میں اٹھا کہ ضبط کا یارا ہی نہ رہا

    آنکھوں میں اشک امنڈ آئے پریمی کا حال بتانے کو

    تم نند کو نین کے تارے ہو تم دین دکھی کے سہارے ہو

    تم ننگے پیروں ڈھانے ہو بھگتوں کا مان بڑھانے کو

    آنکھوں سے خون ٹپکتا ہے سینہ پر خنجر چلتا ہے

    من موہن جلد خبر لینا دینوں کی جان بچانے کو

    فرقت میں تمہاری قلب کے ٹکڑے آنکھوں سے بہہ جاتے ہیں

    اے کرشن مراری آؤ بھی راتوں کو دھیر بندھانے کو

    پھر سانولی چھب دکھلا دو ذرا پھر پریم کا رنگ جما دو ذرا

    گوکل میں شیام نکل آؤ مرلی کی ٹیر سنانے کو

    اپدیش دھرم کا دے کر پھر بلوان بنا دو بھگتوں کو

    اے موہن جلد زباں کھولو گیتا کے راز بتانے کو

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY