بھول جاؤ مجھے

محسن نقوی

بھول جاؤ مجھے

محسن نقوی

MORE BYمحسن نقوی

    وہ تو یوں تھا کہ ہم

    اپنی اپنی ضرورت کی خاطر

    اپنے اپنے تقاضوں کو پورا کیا

    اپنے اپنے ارادوں کی تکمیل میں

    تیرہ و تار خواہش کی سنگلاخ راہوں پہ چلتے رہے

    پھر بھی راہوں میں کتنے شگوفے کھلے

    وہ تو یوں تھا کہ بڑھتے گئے سلسلے

    ورنہ یوں ہے کہ ہم

    اجنبی کل بھی تھے

    اجنبی اب بھی ہیں

    اب بھی یوں ہے کہ تم

    ہر قسم توڑ دو

    سب ضدیں چھوڑ دو

    اور اگر یوں نہ تھا تو یوں ہی سوچ لو

    تم نے اقرار ہی کب کیا تھا کہ میں

    تم سے منسوب ہوں

    میں نے اصرار ہی کب کیا تھا کہ تم

    یاد آؤ مجھے

    بھول جاؤ مجھے

    مآخذ:

    • کتاب : Kulliyat-e-mohsin (Pg. 491)
    • Author : Mohsin Naqvi
    • مطبع : Mavra Publishers (2010)
    • اشاعت : 2010

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY