بھولتی ہوئی یاد

علی جواد زیدی

بھولتی ہوئی یاد

علی جواد زیدی

MORE BYعلی جواد زیدی

    تمہیں جب یاد کرتا ہوں تو اک مٹتی ہوئی دنیا

    مری آنکھوں کے آئینے میں پہروں جھلملاتی ہے

    کہیں دم گھٹ رہا ہے مسکراتے سرخ پھولوں کا

    کہیں کلیوں کے سینے میں ہوا رک رک کے آتی ہے

    کہیں کجلا گئے ہیں دن کے چمکائے ہوئے ذرے

    کہیں راتوں کی ہنستی روشنی غم میں نہاتی ہے

    وہی دنیا جو کل تک دل کا دامن تھام لیتی تھی

    اسی دنیا کے ہر ذرے میں اب بے التفاتی ہے

    تمنا اپنی ناکامی پہ کانپ اٹھتی ہے یوں جیسے

    بگولے میں کوئی سوکھی سی پتی تھرتھراتی ہے

    گھنے کہرے میں جیسے ڈھنکتے جاتے ہوں ہرے سبزے

    یوں ہی بیتے دنوں کی شکل دھندلی پڑتی جاتی ہے

    جوانی کی اندھیری رات آدھی بھی نہیں گزری

    محبت کے دیئے کی لو ابھی سے تھرتھراتی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : azadi ke bad urdu nazm (Pg. 271)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY