بت تراش

صوفی تبسم

بت تراش

صوفی تبسم

MORE BYصوفی تبسم

    اک فسوں کار بت تراش ہوں میں

    زندگی کی طویل راتوں کو

    بار ہالے کے تیشۂ افکار

    بت تراشے ہیں سینکڑوں میں نے

    ترے سانچے میں ڈھالنے کے لیے

    چاند سے نور مرمریں لے کر

    تیرا سیمیں بدن تراش لیا

    مہر سے تاب آتشیں لے کر

    ترے رنگیں لبوں کا روپ دیا

    لے کے توبہ کی عنبریں سائے

    تیری زلفوں کے بال مہکائے

    گھوم کر خلد کی فضاؤں میں

    سرمدی سر خوشی اٹھا لایا

    رنگ بھر کر تری اداؤں میں

    ابدی راحتوں کو شرمایا

    لے کے سیمائے حور کی تقدیس

    چھین کر میں نے قدسیوں کا وقار

    زندگی دی تری نگاہوں کو

    اور بنائیں تری حسیں آنکھیں

    نظر بد کہیں نہ لگ جائے

    میں نے تاروں سے چھین لیں آنکھیں

    پھر بھی میں تجھ سے دور دور رہا

    پھر بھی تجھ سے نہ مل سکیں آنکھیں

    یوں تو اک کہنہ بت تراش ہوں میں

    زندگی کی طویل راتوں کو

    بار ہالے کے تیشۂ افکار

    بت تراشے ہیں سینکڑوں میں نے

    بت تراشے ہیں توڑ ڈالے ہیں

    مآخذ:

    • کتاب : (Sau Baar Chaman Mahka)Kulliyat-e- Sufi Tabassum (Pg. 268)
    • Author : Sufi Ghulam Mustafa Tabassum
    • مطبع : Alhamd Publications, Lahore (2008)
    • اشاعت : 2008

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY