چار مسافر

آفاق صدیقی

چار مسافر

آفاق صدیقی

MORE BYآفاق صدیقی

    نکلے سفر کو پیدل وہ چار ہم سفر تھے

    سب اپنے راستے اور منزل سے باخبر تھے

    اک فلسفی تھا ان میں دوسرا تھا نائی

    پھر تیسرا سپاہی گنجا تھا جس کا بھائی

    جنگل میں رات آئی لازم تھا ان کو سونا

    لے کر چلے تھے اپنے وہ اوڑھنا بچھونا

    سوئے کچھ اس طرح وہ اس میں ہوشیاری

    ہر ایک کا تھا پہرا دو گھنٹے باری باری

    پہلے سپاہی جاگا پھر آدھی رات آئی

    وہ سو گیا تو پہرا دینے لگا تھا نائی

    لمبے تھے اور گھنے تھے جو بال اس کے سر پر

    نائی نے مونڈ ڈالے تیز استرا پھیر کر

    بیدار فلسفی کو کر کے یہ بولا نائی

    باری اب آپ کی ہے اٹھ جاؤ میرے بھائی

    جب ہاتھ فلسفی نے چندیا پہ اپنی پھیرا

    آپے سے ہو کے باہر نائی کو اس نے گھیرا

    یہ کیا غضب کیا ہے ناحق اسے اٹھایا

    باری تھی فلسفی کی گنجے کو کیوں جگایا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY