چراغ جب میرا کمرہ ناپتا ہے

سارا شگفتہ

چراغ جب میرا کمرہ ناپتا ہے

سارا شگفتہ

MORE BY سارا شگفتہ

    چراغ نے پھول کو جنم دینا شروع کر دیا ہے

    دور بہت دور میرا جنم دن رہتا ہے

    آنگن میں دھوپ نہ آئے تو سمجھو

    تم کسی غیر آباد علاقے میں رہتے ہو

    مٹی میں میرے بدن کی ٹوٹ پھوٹ پڑی ہے

    ہمارے خوابوں میں چاپ کون چھوڑ جاتا ہے

    رات کے سناٹے میں ٹوٹتے ہوئے چراغ

    رات کی چادر پہ پھیلتی ہوئی صبح

    میں بکھری پتیاں اٹھاتی ہوں

    تم سمندر کے دامن میں

    کسی بھی لہر کو اتر جانے دو

    اور پھر جب انسانوں کا سناٹا ہوتا ہے

    ہمیں مرنے کی مہلت نہیں دی جاتی

    کیا خواہش کی میان میں

    ہمارے حوصلے رکھے ہوئے ہوتے ہیں

    ہر وفادار لمحہ ہمیں چرا لے جاتا ہے

    رات کا پہلا قدم ہے

    اور میں پیدل ہوں

    بیساکھیوں کا چاند بنانے والے

    میرے آنگن کی چھاؤں لٹ چکی

    میری آنکھیں مرے ہوئے بچے ہیں

    اور پھر میری ٹوٹ پھوٹ

    سمندر کی ٹوٹ پھوٹ ہو جاتی ہے

    میں قریب سے نکل جاؤں

    کوئی سمت سفر کی پہچان نہیں کر سکتی

    شام کی ٹوٹی منڈیر سے

    ہمارے تلاطم پہ

    آج رات کی ترتیب ہو رہی ہے

    مسافر اپنے سنگ میل کی حفاظت کرتا ہے

    چراغ کمرہ ناپتا ہے

    اور غم میرے دل سے جنم لیتا ہی ہے

    زمین حیرت کرتی ہے

    اور ایک پیڑ اگا دیتی ہے

    RECITATIONS

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    Charagh jab mera kamra naapta hai عذرا نقوی

    مآخذ:

    • کتاب : Aankhen(rekhta website) (Pg. 27)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY