چھاجوں برستی بارش کے بعد

حسن عباس رضا

چھاجوں برستی بارش کے بعد

حسن عباس رضا

MORE BYحسن عباس رضا

    رفاقت کے نشے میں جھومتے

    دو سبز پتوں نے

    بہت آہستہ سے تالی بجائی

    اور کہا

    دیکھو'' حسن عباس!

    اتنی خوبصورت رت میں

    کوئی اس طرح تنہا بھی ہوتا ہے

    جو تم اس طور تنہا ہو''!؟

    یہ کہہ کر دونوں اک دوجے سے یوں لپٹے

    کہ جیسے ایک دن تو مجھ سے لپٹی تھی

    اسی لمحے

    مرے ہونٹوں پہ تیرا شہد آگیں

    لمس جاگ اٹھا

    اور اس گم گشتہ نشے کو میں ہونٹوں پر سجائے

    اپنے کمرے میں چلا آیا

    کہ دفتر کا بہت سا کام باقی تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY