درانتی

MORE BYاحمد ندیم قاسمی

    چمک رہے ہیں درانتی کے تیز دندانے

    خمیدہ ہل کی یہ الھڑ جوان نور نظر

    سنہری فصل میں جس وقت غوطہ زن ہوگی

    تو ایک گیت چھڑے گا مسلسل اور دراز

    ندیمؔ ازل سے ہے تخلیق کا یہی انداز

    ستارے بوئے گئے آفتاب کاٹے گئے

    ہم آفتاب ضمیر جہاں میں بوئیں گے

    تو ایک روز عظیم انقلاب کاٹیں گے

    کوئی بتائے زمیں کے اجارہ داروں کو

    بلا رہے ہیں جو گزری ہوئی بہاروں کو

    کہ آج بھی تو اسی شان بے نیازی سے

    چمک رہے ہیں درانتی کے تیز دندانے

    سنہری فصل تک اس کی چمک نہیں موقوف

    کہ اب نظام کہن بھی اسی کی زد میں ہے

    خمیدہ ہل کی یہ الھڑ جوان نور نظر

    جب اس نظام میں لہرا کے غوطہ زن ہوگی

    تو ایک گیت چھڑے گا مسلسل اور دراز

    ندیمؔ ازل سے ہے تخلیق کا یہی انداز

    ستارے بوئے گئے آفتاب کاٹے گئے

    مآخذ:

    • کتاب : kulliyat-e-ahmad nadiim qaasmii (Pg. 213)

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY