درخت

ہرشلتا

درخت

ہرشلتا

MORE BYہرشلتا

    وہ ایک درخت

    کھڑا ہی رہتا تھا

    ہمیشہ ہمیشہ سے

    کتنی بار بدلے موسم

    کتنی کونپلیں پھوٹی

    اور جانے کتنی بار سارے پتے سوکھ کر جھڑ گئے

    اسے ایک دم ننگا کر

    کھڑا رہا وہ پھر بھی

    گھونسلے بنتے رہے

    انڈے کچھ پھوٹے کچھ سانپوں نے ڈس لیے

    اور جو پنپ سکے اس کی چھایا میں

    وہ جس دن اونچا اڑ سکے اڑ چلے

    کھڑا رہا وہ پھر بھی

    بندھتا رہا منت کے لال دھاگوں سے

    دبتا رہا مورتیوں کے بوجھ سے

    ہلا تب بھی نہیں کھڑا رہا پھر بھی

    پرسوں میں جب گیا اس کے پاس کچھ راحت کی آس لیے

    تو دیکھا اس کو روتے ہوئے میں نے

    کہہ رہا تھا کی تھک چکا ہے کھڑے کھڑے

    اکتا چکا ہے

    اپنی گہری جڑوں کی پکڑ ڈھیلی کر

    بدلنا چاہتا ہے کچھ آب و ہوا

    اب کون سمجھائے اسے

    کہ کھڑے رہنا اس کا سوبھاؤ نہیں نیتی ہے اس کی

    ہمیشہ ایسے ہی رہنا ہے اسے

    دھوپ میں جلتے ہوئے

    منت کے دھاگوں سے بندھتے ہوئے

    بس ٹھہرے ہوئے بنا چلتے ہوئے

    چیخ

    کس قدر زور سے اٹھی

    اور پھر رہ گئی گھٹ کر

    ادب کی دیواروں سے ٹکرا کر

    سوراخ کر گئی کتنے

    اس بد بخت بد حواس اور بد حال دل میں

    مأخذ :
    • کتاب : Word File Mail By Salim Saleem

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY