دیوالی

MORE BYنظیر اکبرآبادی

    دوستو کیا کیا دوالی میں نشاط و عیش ہے

    سب مہیا ہے جو اس ہنگام کے شایان ہے

    اس طرح ہیں کوچہ و بازار پر نقش و نگار

    ہو عیاں حسن نگارستاں کی جن سے خوب رے

    گرم جوشی اپنی با جام چراغاں لطف سے

    کیا ہی روشن کر رہی ہے ہر طرف روغن کی مے

    مائل سیر چراغاں نخل ہر جا دم بدم

    حاصل نظارہ حسن شمع رویاں پے بہ پے

    عاشقاں کہتے ہیں معشوقوں سے با عجز و نیاز

    ہے اگر منظور کچھ لینا تو حاضر ہیں روپے

    گر مکرر عرض کرتے ہیں تو کہتے ہیں وہ شوخ

    ہم سے لیتے ہو میاں تکرار‌ و حجت تا بہ کے

    کہتے ہیں اہل قمار آپ میں گرم اختلاط

    ہم تو ڈب میں سو رپے رکھتے ہیں تم رکھتے ہو کے

    جیت کا پڑتا ہے جس کا دانوں وہ کہتا ہے یوں

    سوئے دست راست ہے میرے کوئی فرخندہ پے

    ہے دسہرے میں بھی یوں گو فرحت و زینت نظیرؔ

    پر دیوالی بھی عجب پاکیزہ تر تیوہار ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY