''دیوانوں کا نام ابد تک ہوتا ہے''

حنیف ترین

''دیوانوں کا نام ابد تک ہوتا ہے''

حنیف ترین

MORE BYحنیف ترین

    سنا ہے اس نے پڑھتے پڑھتے

    آنکھوں کو حیران کیا ہے

    پشت سے لپٹے آئینوں کے

    زنگاروں کا دھیان کیا ہے

    صدیوں پر پھیلی، ان دیکھی

    روشنیوں کا گیان کیا ہے

    پل دو پل وشرام کیا تھا

    سنا ہے اس نے لکھتے لکھتے

    دفتر میں اپنے جیون کے

    دن کاٹے تو

    راتوں کا وردان دیا ہے

    گہری فکر کے موٹے موٹے

    شیشے پہن کر

    لفظوں میں نئے معنی اور مفہوم سمو کر

    اور گمان کے دروازوں پر

    نئے طور سے دستک دے کر

    فکر کی اونچائی سے گزر کر

    بڑے بڑے انعام ہیں پائے

    دنیا کے سمان اٹھائے

    لیکن اب تو

    اپنے آرٹ کے تاج محل میں

    اک تصویر سا لٹکا ہوا ہے

    مآخذ :
    • کتاب : Zamin Lapata Rahi (Pg. 35)
    • Author : Hanif Tareen
    • مطبع : Libarty Art Press, Pataudi House, Darya Ganj, (2001)
    • اشاعت : 2001

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY