دعا

MORE BYاحمد ندیم قاسمی

    مجھے تو مژدۂ کیفیت دوامی دے

    مرے خدا مجھے اعزاز ناتمامی دے

    میں تیرے چشمۂ رحمت سے کام کام رہوں

    کبھی کبھی مجھے احساس تشنہ کامی دے

    مجھے کسی بھی معزز کا ہم رکاب نہ کر

    میں خود کماؤں جسے بس وہ نیک نامی دے

    وہ لوگ جو کئی صدیوں سے ہیں نشیب نشیں

    بلند ہوں تو مجھے بھی بلند بامی دے

    تری زمین یہ تیرے چمن رہیں آباد

    جو دشت دل ہے اسے بھی تو لالہ فامی دے

    بڑا سرور سہی تجھ سے ہم کلامی میں

    بس ایک بار مگر ذوق خود کلامی دے

    میں دوستوں کی طرح خاک اڑا نہیں سکتا

    میں گرد راہ سہی مجھ کو نرم گامی دے

    اگر گروں تو کچھ اس طرح سر بلند گروں

    کہ مار کر مرا دشمن مجھے سلامی دے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY