اعتماد

MORE BYکفیل آزر امروہوی

    میں نے سوچا تھا کہ اس بار تمہاری باہیں

    میری گردن میں بصد شوق حمائل ہوں گی

    مشکلیں راہ محبت میں نہ حائل ہوں گی

    میں نے سوچا تھا کہ اس بار نگاہوں کے سلام

    آئیں گے اور بہ انداز دگر آئیں گے

    پھول ہی پھول فضاؤں میں بکھر جائیں گے

    میں نے سوچا تھا کہ اس بار تمہاری سانسیں

    میری بہکی ہوئی سانسوں سے لپٹ جائیں گی

    بزم احساس کی تاریکیاں چھٹ جائیں گی

    میں نے سوچا تھا کہ اس بار تمہارا پیکر

    میرے بے خواب دریچوں کو سلا جائے گا

    میرے کمرے کو سلیقے سے سجا جائے گا

    میں نے سوچا تھا کہ اس بار مرے آنگن میں

    رنگ بکھریں گے امیدوں کی دھنک ٹوٹے گی

    میری تنہائی کے عارض پہ شفق پھوٹے گی

    میں نے سوچا تھا کہ اس بار بایں صورت حال

    میرے دروازے پہ شہنائیاں سب دیکھیں گے

    جو کبھی پہلے نہیں دیکھا تھا اب دیکھیں گے

    میں نے سوچا تھا کہ اس بار محبت کے لیے

    گنگناتے ہوئے جذبوں کی برات آئے گی

    مدتوں بعد تمناؤں کی رات آئے گی

    تم مرے عشق کی تقدیر بنو گی اس بار

    جیت جائے گا مرا جوش جنوں سوچا تھا

    اور اب سوچ رہا ہوں کہ یہ کیوں سوچا تھا

    مآخذ:

    • کتاب : Dhoop Ka Dareecha (Pg. 51)

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY