احساس

عابد ادیب

احساس

عابد ادیب

MORE BYعابد ادیب

    پھر مجھے ایسا لگا

    جیسے کاغذ پر سیاہی پھیلنے سے

    لفظ گڈمڈ ہو گئے ہوں

    آئنہ دھندلا گیا ہو

    جانے پہچانے ہوئے سب لوگ

    جیسے اجنبی سے بن گئے ہوں

    میرے کمرے میں پڑی

    ٹیبل کے خانوں سے نکل کر

    خط ہوا میں اڑ رہے ہوں

    باکس میں رکھا ہوا رومال

    شعلہ بن گیا ہو

    برف کے تودوں تلے دب کر ذہن بھی

    منجمد ہونے کے بدلے جل رہا ہو

    پھر مجھے ایسا لگا

    جیسے میں اپنے سے باغی ہو گیا ہوں

    اپنے ہی اوپر میں حملہ کر رہا ہوں

    سوچتا ہوں

    میں نے شاید کل تجھے کچھ کہہ دیا تھا

    تو نے بھی مجھ کو سنایا تھا بہت کچھ

    اور پھر دونوں ہی ہم چپ ہو گئے تھے

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY