ایک عورت کی ہنسی

فہمیدہ ریاض

ایک عورت کی ہنسی

فہمیدہ ریاض

MORE BYفہمیدہ ریاض

    پتھریلے کہسار کے گاتے چشموں میں

    گونج رہی ہے ایک عورت کی نرم ہنسی

    دولت طاقت اور شہرت سب کچھ بھی نہیں

    اس کے بدن میں چھپی ہے اس کی آزادی

    دنیا کے معبد کے نئے بت کچھ کر لیں

    سن نہیں سکتے اس کی لذت کی سسکی

    اس بازار میں گو ہر مال بکاؤ ہے

    کوئی خرید کے لائے ذرا تسکین اس کی

    اک سرشاری جس سے وہ ہی واقف ہے

    چاہے بھی تو اس کو بیچ نہیں سکتی

    وادی کی آوارہ ہواؤ آ جاؤ

    آؤ اور اس کے چہرے پر بوسے دو

    اپنے لمبے لمبے بال اڑاتی جائے

    ہوا کی بیٹی ساتھ ہوا کے گاتی جائے

    RECITATIONS

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    ایک عورت کی ہنسی عذرا نقوی

    مأخذ :
    • کتاب : Muntakhab Shahkar Nazmon Ka Album) (Pg. 327)
    • Author : Munavvar Jameel
    • مطبع : Haji Haneef Printer Lahore (2000)
    • اشاعت : 2000

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY