ایک لمحہ

کیفی اعظمی

ایک لمحہ

کیفی اعظمی

MORE BYکیفی اعظمی

    جب بھی چوم لیتا ہوں ان حسین آنکھوں کو

    سو چراغ اندھیرے میں جھلملانے لگتے ہیں

    خشک خشک ہونٹوں میں جیسے دل کھنچ آتا ہے

    دل میں کتنے آئینے تھرتھرانے لگتے ہیں

    پھول کیا شگوفے کیا چاند کیا ستارے کیا

    سب رقیب قدموں پر سر جھکانے لگتے ہیں

    ذہن جاگ اٹھتا ہے روح جاگ اٹھتی ہے

    نقش آدمیت کے جگمگانے لگتے ہیں

    لو نکلنے لگتی ہے مندروں کے سینے سے

    دیوتا فضاؤں میں مسکرانے لگتے ہیں

    رقص کرنے لگتی ہیں مورتیں اجنتا کی

    مدتوں کے لب بستہ غار گانے لگتے ہیں

    پھول کھلنے لگتے ہیں اجڑے اجڑے گلشن میں

    تشنہ تشنہ گیتی پر ابر چھانے لگتے ہیں

    لمحہ بھر کو یہ دنیا ظلم چھوڑ دیتی ہے

    لمحہ بھر کو سب پتھر مسکرانے لگتے ہیں

    مآخذ :
    • کتاب : Nai Nazm ka safar (Pg. 130)
    • Author : Khalilur Rahman Azmi
    • مطبع : NCPUL, New Delhi (2011)
    • اشاعت : 2011

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY