ایک لمحہ!

کیفی اعظمی

ایک لمحہ!

کیفی اعظمی

MORE BYکیفی اعظمی

    زندگی نام ہے کچھ لمحوں کا

    اور ان میں بھی وہی اک لمحہ

    جس میں دو بولتی آنکھیں

    چائے کی پیالی سے جب اٹھیں

    تو دل میں ڈوبیں

    ڈوب کے دل میں کہیں

    آج تم کچھ نہ کہو

    آج میں کچھ نہ کہوں

    بس یوں ہی بیٹھے رہو

    ہاتھ میں ہاتھ لیے

    غم کی سوغات لیے

    گرمئ جذبات لیے

    کون جانے کہ اسی لمحے میں

    دور پربت پہ کہیں

    برف پگھلنے ہی لگے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY