ایک نظر

صوفی تبسم

ایک نظر

صوفی تبسم

MORE BYصوفی تبسم

    ایک بار اور ذرا دیکھ ادھر

    اپنے جلووں کو بکھر جانے دے

    روح میں مری اتر جانے دے

    مسکراتی ہوئی نظروں کا فسوں

    یہ حسیں لب یہ درخشندہ جبیں

    ابھی بے باک نہیں

    اور آنے دے انہیں میری نگاہوں کے قریں

    ڈال پھر میری جواں خیز تمناؤں پر

    بے محابا سا باسی نظر

    ایک بار اور ذرا دیکھ ادھر

    ہاں وہی ایک نظر

    غیر فانی سی نظر

    جس کی آغوش میں رقصندہ ہے

    ابدی کیف کی دنیائے جمیل

    جس میں تاریکی آلام نہیں

    کاہش گردش ایام نہیں

    محو ہو جاتے ہیں جس سے یکسر

    یاد ماضی کی خلش

    کاوش فردا کا اثر

    ہاں وہیں ایک نظر

    ایک بار اور ذرا دیکھ ادھر

    مآخذ :
    • کتاب : Muntakhab Shahkar Nazmon Ka Album) (Pg. 441)
    • Author : Munavvar Jameel
    • مطبع : Haji Haneef Printer Lahore (2000)
    • اشاعت : 2000

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY