ایک زندگی اور مل جائے

عذرا عباس

ایک زندگی اور مل جائے

عذرا عباس

MORE BYعذرا عباس

    اگر مجھے ایک زندگی

    اور مل جائے

    تو میں اپنے سفر کو

    اپنے اسباب کے ساتھ

    باندھ کر رکھوں

    ایک پرندے کی طرح

    پانیوں سے ٹکراتی ہوئی

    آنکھ سے اوجھل ہو جاؤں

    ایک ایسے درخت کی طرح

    جو ساری عمر

    دھوپ اور چھاؤں کا مزا لیتا ہے

    ایک ایسے بنجارے کی طرح

    جو پہاڑوں اور میدانوں کو

    اپنے قدموں کی دھول میں

    سمیٹ لیتا ہے

    کسی ایسی رقاصہ کی طرح

    جو اپنے من کا بوجھ

    اپنے جسم پر ڈال دیتی ہے

    کسی ایسی جنگ میں شریک ہو کر

    جو بھوک اور نفرت کے خلاف

    لڑی جا رہی ہو

    ماری جاؤں

    RECITATIONS

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    Ek zindagi aur mil jaye عذرا نقوی

    مأخذ :
    • کتاب : AN EVENING OF CAGED BEASTS (Pg. 72)
    • Author : Asif Farrukhi
    • مطبع : Ameena Saiyid, Oxford University (1999)
    • اشاعت : 1999

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY