اپنے آپ سے

زاہد ڈار

اپنے آپ سے

زاہد ڈار

MORE BYزاہد ڈار

    میں نے لوگوں سے بھلا کیا سیکھا

    یہی الفاظ میں جھوٹی سچی

    بات سے بات ملانا دل کی

    بے یقینی کو چھپانا سر کو

    ہر غبی کند ذہن شخص کی خدمت میں جھکانا ہنسنا

    مسکراتے ہوئے کہنا صاحب

    زندگی کرنے کا فن آپ سے بہتر تو یہاں کوئی نہیں جانتا ہے

    گفتگو کتنی بھی مجہول ہو ماتھا ہموار

    کان بیدار رہیں آنکھیں نہایت گہری

    سوچ میں ڈوبی ہوئی

    فلسفی ایسے کتابی یا زبانی مانو

    اس سے پہلے کبھی انسان نے دیکھے نے سنے

    ان کو بتلا دو یہی بات وگرنہ اک دن

    او روح دن بھی بہت دور نہیں

    تم نہیں آؤ گے یہ لوگ کہیں گے جاہل

    بات کرنے کا سلیقہ ہی نہیں جانتا ہے

    کیا تمہیں خوف نہیں آتا ہے

    خوف آتا ہے کہ لوگوں کی نظر سے گر کر

    حاضرہ دور میں اک شخص جیے تو کیسے

    شہر میں لاکھوں کی آبادی میں

    ایک بھی ایسا نہیں

    جس کا ایمان کسی ایسے وجود

    ایسی ہستی یا حقیقت یا حکایت پر ہو

    جس تک

    حاضرہ دور کے جبرئیل کی یعنی اخبار

    دسترس نہ ہو رسائی نہ ہو

    میں نے لوگوں سے بھلا کیا سیکھا

    بزدلی اور جہالت کی فضا میں جینا

    دائمی خوف میں رہنا کہنا

    سب برابر ہیں ہجوم

    جس طرف جائے وہی رستہ ہے

    میں نے لوگوں سے بھلا کیا سیکھا

    مآخذ:

    • کتاب : tanhaa.ii (Pg. 252)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY