ملاقات

زبیر رضوی

ملاقات

زبیر رضوی

MORE BYزبیر رضوی

    رات سناٹا در و بام کے ہونٹوں پہ سکوت

    راہیں چپ چاپ ہیں پتھر کے بتوں کی مانند

    روشنی طاقتوں میں السائی ہوئی بیٹھی ہے

    نیند آنکھوں کے دریچوں سے لگی بیٹھی ہے

    دن کے ہنگاموں کی رونق کو بجھے دیر ہوئی

    چاند کو نکلے ستاروں کو سجے دیر ہوئی

    اب کسی چشم نگہ دار کا خطرہ بھی نہیں

    وقت کے ہاتھ میں اب سنگ ملامت بھی نہیں

    دل جو مچلے تو کوئی ٹوکنے والا بھی نہیں

    جسم پگھلے تو کوئی دیکھنے والا بھی نہیں

    اے نگار دل و جاں شوق کی باہوں میں مچل

    سایہ سایہ یوں ہی آغوش چمن زار میں چل

    دن ستم پیشہ ہے رازوں کو اگل دیتا ہے

    رات معصوم ہے رازوں کو چھپا لیتی ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Sang-ge-Sada (Pg. 43)
    • Author : Zubair Razvi
    • مطبع : Zehne Jadid, New Delhi (2014)
    • اشاعت : 2014

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY