فیصلہ

اختر الایمان

فیصلہ

اختر الایمان

MORE BY اختر الایمان

    آج سوچا ہے کہ احساس کو زائل کر دوں

    اپنے شوریدہ ارادے کو اپاہج کر لوں

    اپنی مجروح تمنا کا مداوا نہ کروں

    اپنی خوابیدہ محبت کا المناک مآل

    اپنی بے خواب جوانی کو سنایا نہ کروں

    اپنے بے کیف تصور کے سہارے کے لیے

    ایک بھی شمع سر راہ جلایا نہ کروں

    اپنے بے سود تخیل کو بھٹک جانے دوں

    زندگی جیسے گزرتی ہے گزر جانے دوں

    چند لمحوں میں گزرنے کو ہے ہنگامۂ شب

    سو گئے جام صراحی کا سہارا لے کر

    سرد پڑنے لگا اجڑی ہوئی محفل کا گداز

    تھک گئی گردش یک رنگ سے ساقی کی نظر

    چند بیدار فسانوں کا اثر لوٹ گیا

    دب گیا تلخ حقیقت میں نشہ تا بہ کمر

    میں ابھی آخری مے نوش ہوں میخانے میں

    دیکھنا کیا ہے مری سمت بڑھا جام بڑھا

    لا صراحی کو مرے پاس شکستہ ہی سہی

    چھیڑ ٹوٹے ہوئے تاروں کو کراہیں تو ذرا

    سوچتا کیا ہے انڈیل اور انڈیل اور انڈیل

    سرد پڑتی ہوئی محفل کے مکدر پہ نہ جا

    اپنے بیدار تفکر کی ہلاکت پہ ہنسوں

    آج سوچا ہے کہ احساس کو زائل کر دوں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    اختر الایمان

    اختر الایمان

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY