فن پارہ

جون ایلیا

فن پارہ

جون ایلیا

MORE BYجون ایلیا

    یہ کتابوں کی صف بہ صف جلدیں

    کاغذوں کا فضول استعمال

    روشنائی کا شاندار اسراف

    سیدھے سیدھے سے کچھ سیہ دھبے

    جن کی توجیہہ آج تک نہ ہوئی

    چند خوش ذوق کم نصیبوں نے

    بسر اوقات کے لیے شاید

    یہ لکیریں بکھیر ڈالی ہیں

    کتنی ہی بے قصور نسلوں نے

    ان کو پڑھنے کے جرم میں تا عمر

    لے کے کشکول علم و حکمت و فن

    کو بہ کو جاں کی بھیک مانگی ہے

    آہ یہ وقت کا عذاب الیم

    وقت خلاق بے شعور قدیم

    ساری تعریفیں ان اندھیروں کی

    جن میں پرتو نہ کوئی پرچھائیں

    آہ یہ زندگی کی تنہائی

    سوچنا اور سوچتے رہنا

    چند معصوم پاگلوں کی سزا

    آج میں نے بھی سوچ رکھا ہے

    وقت سے انتقام لینے کو

    یوں ہی تا شام سادے کاغذ پر

    ٹیڑھے ٹیڑھے خطوط کھینچے جائیں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    فن پارہ نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY