فرار

MORE BY ساحر لدھیانوی

    اپنے ماضی کے تصور سے ہراساں ہوں میں

    اپنے گزرے ہوئے ایام سے نفرت ہے مجھے

    اپنی بے کار تمناؤں پہ شرمندہ ہوں

    اپنی بے سود امیدوں پہ ندامت ہے مجھے

    میرے ماضی کو اندھیرے میں دبا رہنے دو

    میرا ماضی مری ذلت کے سوا کچھ بھی نہیں

    میری امیدوں کا حاصل مری کاوش کا صلہ

    ایک بے نام اذیت کے سوا کچھ بھی نہیں

    کتنی بے کار امیدوں کا سہارا لے کر

    میں نے ایوان سجائے تھے کسی کی خاطر

    کتنی بے ربط تمناؤں کے مبہم خاکے

    اپنے خوابوں میں بسائے تھے کسی کی خاطر

    مجھ سے اب میری محبت کے فسانے نہ کہو

    مجھ کو کہنے دو کہ میں نے انہیں چاہا ہی نہیں

    اور وہ مست نگاہیں جو مجھے بھول گئیں

    میں نے ان مست نگاہوں کو سراہا ہی نہیں

    مجھ کو کہنے دو کہ میں آج بھی جی سکتا ہوں

    عشق ناکام سہی زندگی ناکام نہیں

    ان کو اپنانے کی خواہش انہیں پانے کی طلب

    شوق بے کار سہی سعئ غم انجام نہیں

    وہی گیسو وہی نظریں وہی عارض وہی جسم

    میں جو چاہوں تو مجھے اور بھی مل سکتے ہیں

    وہ کنول جن کو کبھی ان کے لیے کھلنا تھا

    ان کی نظروں سے بہت دور بھی کھل سکتے ہیں

    مآخذ:

    • کتاب : Kulliyat-e-Sahir (Pg. 88)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY