فریب

MORE BYکفیل آزر امروہوی

    ہر ایک شام مجھے یوں خیال آتا ہے

    کہ جیسے ٹاٹ کا میلا پھٹا ہوا پردہ

    تمہارے ہاتھ کی جنبش سے کانپ جائے گا

    کہ جیسے تم ابھی دفتر سے لوٹ آؤ گے

    مجھے تو یاد نہیں کچھ تمہارے سر کی قسم

    مگر پڑوس کی لڑکی بتا رہی تھی کہ میں

    اب اپنی مانگ میں افشاں نہیں سجاتی ہوں

    توے پہ روٹیاں اکثر جلائی ہیں میں نے

    شکر کے بدلے نمک چائے میں ملاتی ہوں

    وہ کہہ رہی تھی کہ ننگی کلائیاں میری

    تمام عمر یوں ہی چوڑیوں کو ترسیں گی

    غموں کی دھوپ میں جلتے ہوئے اس آنگن پر

    مسرتوں کی گھٹائیں کبھی نہ برسیں گی

    وہ کہہ رہی تھی کہ تم اب کبھی نہ آؤ گے

    گلی کے موڑ پہ لیکن ہر ایک شام مجھے

    تمہارے قدموں کی آہٹ سنائی دیتی ہے

    ہر ایک شام مجھے یوں خیال آتا ہے

    کہ جیسے تم ابھی دفتر سے لوٹ آؤ گے

    مآخذ:

    • کتاب : Dhoop Ka Dareecha (Pg. 88)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY