غم کا آہنگ ہے

اختر ضیائی

غم کا آہنگ ہے

اختر ضیائی

MORE BYاختر ضیائی

    غم کا آہنگ ہے

    اس شام کی تنہائی میں

    دام نیرنگ ہے

    آغاز کا انجام لیے

    کوئی نغمہ کوئی خوشبو نہیں

    پروائی میں

    دل کے آئینے میں

    اور روح کی گہرائی میں

    ایک ہی عکس کئی نام لیے

    رقص میں ہے

    پرتو حسن دلآرام لیے

    پھر ترے دھیان میں بیٹھا ہوں

    تہی جام لیے

    حسرت سعی طلب

    بے سر و سامان بھی ہے

    سخت ہیجان بھی ہے

    جلتے بجھتے سے دیے

    زیست کی پہنائی میں

    وقت کی جھیل میں

    یادوں کے کنول

    دور تک دھند کے ملبوس میں

    مانوس نقوش

    چاندنی رات پون

    تاج محل

    تلخ ماضی کی حکایات ہیں

    اور حال کے افسانے بھی

    منتشر خواب ہیں

    ویران صنم خانے بھی

    ہاں مگر یاد

    تیرے وصل کا پیمان بھی ہے

    ایک مدت سے

    تری دید کا ارمان بھی ہے!!

    مآخذ
    • کتاب : ajnabii musamo.n ki khushboo (Pg. 75)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY