Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

گھاس تو مجھ جیسی ہے

کشور ناہید

گھاس تو مجھ جیسی ہے

کشور ناہید

MORE BYکشور ناہید

    گھاس بھی مجھ جیسی ہے

    پاؤں تلے بچھ کر ہی زندگی کی مراد پاتی ہے

    مگر یہ بھیگ کر کس بات گواہی بنتی ہے

    شرمساری کی آنچ کی

    کہ جذبے کی حدت کی

    گھاس بھی مجھ جیسی ہے

    ذرا سر اٹھانے کے قابل ہو

    تو کاٹنے والی مشین

    اسے مخمل بنانے کا سودا لیے

    ہموار کرتی رہتی ہے

    عورت کو بھی ہموار کرنے کے لیے

    تم کیسے کیسے جتن کرتے ہو

    نہ زمیں کی نمو کی خواہش مرتی ہے

    نہ عورت کی

    میری مانو تو وہی پگڈنڈی بنانے کا خیال درست تھا

    جو حوصلوں کی شکستوں کی آنچ نہ سہہ سکیں

    وہ پیوند زمیں ہو کر

    یوں ہی زور آوروں کے لیے راستہ بناتے ہیں

    مگر وہ پر کاہ ہیں

    گھاس نہیں

    گھاس تو مجھ جیسی ہے!

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    کشور ناہید

    کشور ناہید

    RECITATIONS

    کشور ناہید

    کشور ناہید,

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی,

    کشور ناہید

    گھاس تو مجھ جیسی ہے کشور ناہید

    عذرا نقوی

    Ghaas to mujh jesi hai عذرا نقوی

    مأخذ :
    • کتاب : kulliyat dusht-e-qais main laila (Pg. 471)

    موضوعات

    یہ متن درج ذیل زمرے میں بھی شامل ہے

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے