گھر

ساقی فاروقی

گھر

ساقی فاروقی

MORE BY ساقی فاروقی

    دو رستے ہیں

    دونوں تیرے گھر جاتے ہیں

    اس رستے سے تین برس میں گھر پہنچے گا

    اس پر سات برس لگتے ہیں

    جس پر سات برس لگتے ہیں وہ رستہ ہموار بھی ہے

    اس رستے کے دونوں جانب شہر بھی ہے بازار بھی ہے

    تین برس والے رستے کے بیچ میں جنگل پڑتا ہے

    جنگل جس میں برس برس تک

    سونے والے کالے اژدر

    اپنے مقناطیسی زہر سے اپنی جانب کھینچتے ہیں

    جنگل جس کے مہلک پتے

    پیروں کے چھالوں سے لپٹ کر

    سارا لہو پی جاتے ہیں

    تو مالک ہے

    جس رستے سے جانا چاہے جا سکتا ہے

    میں نے اپنے دوسرے میں کی بات سنی اور خوب ہنسا

    میں خوب ہنسا اور تین برس والے رستے پر چلنے لگا۔۔۔،

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    گھر نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites