گیت

MORE BYاحمد ندیم قاسمی

    رات دن سلسلۂ عمر رواں کی کڑیاں

    کل جہاں روح جھلس جاتی تھی

    اپنے سائے سے بھی آنچ آتی تھی

    آج اسی دشت پہ ساون کی لگی ہیں جھڑیاں

    رات دن سلسلۂ عمر رواں کی کڑیاں

    شب کو جو وادیاں سنسان رہیں

    صبح یوں اوس سے آراستہ تھیں

    ہر طرف موتیوں کی جیسے تنی ہوئی لڑیاں

    رات دن سلسلۂ عمر رواں کی کڑیاں

    توڑ کر پاؤں نہ بیٹھو آؤ!

    صبح کے اور قریب آ جاؤ!

    یوں تو ہر حال میں کٹتی ہی رہیں گی گھڑیاں

    رات دن سلسلۂ عمر رواں کی کڑیاں

    مآخذ:

    • کتاب : kulliyat-e-ahmad nadiim qaasmii (Pg. 262)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY