Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

گم نام ساحل

سحر علی

گم نام ساحل

سحر علی

MORE BYسحر علی

    ملو اک دن کسی گم نام ساحل پر

    وہاں پر ہم قدم ہو کر

    چلیں گے دور تک یوں ہی

    ہم اپنے بھیگے پیروں کے نشاں کو

    ریت کے دامن سے چن کر

    منزلوں کے ہاتھ میں دے کر

    کوئی وعدہ کریں گے

    نیا سپنا بنیں گے

    اٹھا کر کوئی ارماں

    ریگ ساحل سے

    ہم اک دن

    سیپیوں کے دل میں رکھ دیں گے

    تاکہ ابر نیساں

    جب بھی برسے

    سیپیاں موتی جنیں

    پرندے بھول کر پرواز اپنی

    درد کی لہریں گنیں

    ملو اک دن کسی گمنام ساحل پر

    سمندر کے کشادہ دل میں سورج ڈوبتا ہے جب

    سمے جس دم گلے مل کر سیندوری شام کرتا ہے

    شفق کے ہاتھ تیزی سے

    افق میں رنگ بھرتے ہیں

    موجوں کو کناروں پر صبا مہمیز کرتی ہے

    فضا گل ریز کرتی ہے

    کہاں تک روک سکتے ہیں

    خوابوں کی اڑانوں کو

    یہ لہریں دل میں رکھتی ہیں

    بہت سی داستانوں کو

    ملو اک دن کسی گم نام ساحل پر

    ہمارے بخت خوابیدہ کو

    موجوں کی کوئی کروٹ جگا دے گی

    محبت زندگی کو خوشبوؤں کا راستہ دے گی

    ہم اپنی اوک میں لے کر سمندر سے کوئی قطرہ

    زمین دل کو نم کر کے

    وہاں پر خواب بوئیں گے

    ہماری مخملیں خواہش

    ذرا سی بھیگ جائے گی

    تو جینا سیکھ جائے گی

    ملو اک دن کسی گمنام ساحل پر

    نہیں بدلا یہ دل ہم نے

    کئی موسم خراب آئے

    سمندر چاہتا یہ ہے

    محبت زیر آب آئے

    چلو ان کشتیوں کے بادبانوں پر

    تمہارا نام لکھ کر ہم

    سنہرے پانیوں کے ہاتھ میں دے دیں

    یہ کشتی ڈھونڈ لے گی جب

    محبت کے جزیرے کو

    تو ہم عمر رواں اک ساتھ کاٹیں گے

    تمہارا درد بانٹیں گے

    ملو اک دن کسی گمنام ساحل پر

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے