گمشدہ آدمی کا انتظار

چندر بھان خیال

گمشدہ آدمی کا انتظار

چندر بھان خیال

MORE BYچندر بھان خیال

    لہو نوش لمحوں کے بیدار سائے

    اسے گھیر لیں گے سنانیں اٹھائے

    تمازت زدہ شب زن باکرہ سی

    سمٹ جائے گی اور بھی اپنے تن میں

    وہ سورج کا ساتھی اندھیروں کے بن میں

    اثاثہ لیے فکر کا اپنے فن میں

    شعاعوں کی سولی پہ زندہ ٹنگا ہے

    نہ اب شہر میں کوئی اتنا حزیں ہے

    غضب ناک تنہائیوں کو یقیں ہے

    کہ اس کے مقدر میں وہ خود نہیں ہے

    وہ اک انفرادی حقیقت کا حامی

    فصیلوں پہ وہم و گماں کی کھڑا ہے

    شہر زاد شبنم سے یہ پوچھتا ہے

    کہ سورج کے سینے میں کیا کیا چھپا ہے

    مگر شام کی سرخ آنکھوں نے اس پر

    ہمیشہ سلگتی ہوئی راکھ ڈالی

    تہہ آتش سرخ رو وہ سوالی

    کہ جس نے ہتھیلی پہ سرسوں جما لی

    کسی دیوتا کی نگاہ غضب سے

    بنا اجنبی اپنے آباد گھر میں

    کبھی اس نگر میں کبھی اس نگر میں

    کبھی بس گیا صرف دیوار و در میں

    وہ اک شخص تنہا کہ جس کا ابھی تک

    سفر ہے مسلسل نہ گھر مستقل ہے

    فقط پاس میں اس کے معصوم دل ہے

    مگر کس قدر مضطرب مضمحل ہے

    جو شہر انا میں کھڑا سوچتا ہے

    کہاں رات کاٹے کہاں دن بتائے

    ہتھیلی پہ دنیا کا نقشہ بنائے

    بھٹکتا ہے وہ آج بھی چوٹ کھائے

    ارے گم شدہ آدمی آ کے مل جا

    ارے گم شدہ آدمی آ کے مل جا

    مأخذ :
    • کتاب : azadi ke bad urdu nazm (Pg. 675)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے