غنڈہ

MORE BYعلی عمران

    موت بندوق لیے پھرتی ہے

    گلی کوچوں میں دندناتی ہے

    کان میں سیٹیاں بجاتی ہے

    آسماں ناک پر اٹھاتی ہوئی

    ٹھوکروں سے زمیں اڑاتی ہوئی

    تختیاں غور سے پڑھتی ہے سب مکانوں کی

    گالیاں بکتی گزرتی ہے ہر محلے سے

    ریز گاری بھی چراتی ہے روز گلے سے

    موت بندوق لیے پھرتی ہے

    کوئی گھر سے نکل نہیں پاتا

    اس کے ڈر سے نکل نہیں پاتا

    بڑی دہشت ہے اس کی گھر گھر میں

    موت جیسے کہ گلی کا دادا

    جو کسی دوسرے محلے سے

    بھتہ لینے کو جو آیا تو پلٹ کر نہ گیا

    روز گلیوں میں آ نکلتی ہے

    سب دکانوں میں پرچی گرتی ہے

    موت بندوق لیے پھرتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY