ہم بچے ہم شہزادے

شوکت پردیسی

ہم بچے ہم شہزادے

شوکت پردیسی

MORE BYشوکت پردیسی

    دلچسپ معلومات

    مطبوعہ: ماہنامہ ٹافی، 1977ئ

    پھول کھلیں گے گلشن میں

    دیپ جلیں گے آنگن میں

    دل نہ کسی کا ہم توڑیں گے

    عہد ہے اپنا بچپن میں

    رکھیں گے ماں باپ کی لاج

    چمکیں گے علم و فن میں

    باہم مل کے رہیں گے ہم

    کھوٹ نہ رکھیں گے من میں

    دنیا ہم کو دیکھے گی

    ایک نئے پیراہن میں

    پھیلیں گے خوشبو کی طرح

    دھرتی کے اس آنگن میں

    دل میں جو رکھتا ہے لالچ

    رہتا ہے وہ الجھن میں

    ہم بچے ہیں ہم شہزادے

    کھلیں گے ہر آنگن میں

    جو ہے سمجھتا جھوٹا ہم کو

    چہرہ دیکھے درپن میں

    علم کا جس کو شوق نہیں ہے

    خاک ہے اس کے دامن میں

    اونچی اونچی بات نہیں ہے

    اونچی ہمت ہے من میں

    شوکتؔ اک دن لائیں گے

    بچے خوشیاں جیون میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے