ہم خود بھی اپنے ساتھ نہیں

پیرزادہ قاسم

ہم خود بھی اپنے ساتھ نہیں

پیرزادہ قاسم

MORE BYپیرزادہ قاسم

    اک کبھی نہ بیتنے والی شب

    اک ہاتھ نہ آنے والا دن

    اس شب سے جان چھڑانے میں

    اس دن کو ڈھونڈ کے لانے میں

    ہم ریزہ ریزہ ہو کے رہے

    جو پایا تھا وہ کھو کے رہے

    اس پانے میں اس کھونے میں

    ہونے میں اور نہ ہونے میں

    کچھ سود و زیاں کا ہاتھ ہے کیا

    یا اور ہی کوئی بات ہے کیا

    اس ساری اضافی باتوں میں

    بس ایک ہی بات ضروری ہے

    یاں شب کی سحر سے دوری ہے

    اس شب کے تسلسل میں پنہاں

    اک گھور اندھیرا جہل کا ہے

    جس جہل کی کالی آندھی نے

    جیون کے سچ کو چاٹ لیا

    اور ہم نے اسی ویرانی میں

    اک اندھا جیون کاٹ لیا

    اس کالے اندھے جیون میں

    غربت کی تیرہ بختی نے

    کچھ قسمت کے احسان نے بھی

    کچھ جبر وقت کی سختی نے

    انسان سے کیا کچھ چھینا ہے

    یہ جینا کیسا جینا ہے

    پسماندگیٔ جاں روح تلک

    در آئی سیاہی اوڑھے ہوئے

    ہم مقتل شب میں آ بیٹھے

    انکار کا دامن چھوڑے ہوئے

    انکار کہ جس کی جنبش لب

    ہر شب کی سحر بن سکتی ہے

    یہ جرأت و نافرمانیٔ شب

    بے بس کی سپر بن سکتی ہے

    پھر کیوں اس قتل گہہ شب میں

    آ بیٹھے ہیں جی ہار کے ہم

    اقرار سے لب آسودہ سہی

    منکر تو نہیں انکار کے ہم

    اس شب در شب تاریکی میں

    جو رات بھی ہے وہ رات نہیں

    اس ہارنے والی بازی میں

    جو مات بھی ہے وہ مات نہیں

    کچھ قسمت کی سفاکی نہیں

    کچھ سود و زیاں کا ہاتھ نہیں

    بس ایک ہی دکھ بے پایاں ہے

    ہم خود بھی اپنے ساتھ نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY