ہمارے لیے صبح کے ہونٹ پر بد دعا ہے

سرمد صہبائی

ہمارے لیے صبح کے ہونٹ پر بد دعا ہے

سرمد صہبائی

MORE BYسرمد صہبائی

    بد دعا ہے

    ہمارے لیے صبح کے ہونٹ پر بد دعا ہے

    گھروں میں اترتی اذانوں میں

    حکم سزا ہے

    سنو بد دعا ہے

    ہمارے لیے صبح کے ہونٹ پر بد دعا ہے

    سنو ہم نے شب بھر

    اسے یاد رکھا

    اندھیرے کی دیوار کے سرد سینے سے لگ کر

    اسے اپنے دل کے افق سے صدا دی

    کبھی اپنی سانسوں کے دکھ میں پکارا

    دلاسوں کی دہلیز پر

    ٹوٹے خوابوں کی دھجیاں

    رات بھر جاگنے کا صلہ ہے

    سنو بد دعا ہے

    ہمارے لیے صبح کے ہونٹ پر بد دعا ہے

    سنو شہر والو

    کہاں ہے ہمارے لہو کی بشارت

    ہمارے پر اسرار خوابوں کا موسم

    جسے ہم نے بچوں کی پلکوں سے سینچا

    جسے ماؤں کی التجاؤں سے مانگا

    ہمارا مقدر

    ہواؤں میں اڑتا ہوا

    موت کا ذائقہ ہے

    سنو بد دعا ہے

    مأخذ :
    • کتاب : meyaar (Pg. 63)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے