ہمارے استاد

کیف احمد صدیقی

ہمارے استاد

کیف احمد صدیقی

MORE BYکیف احمد صدیقی

    کتنی محنت سے پڑھاتے ہیں ہمارے استاد

    ہم کو ہر علم سکھاتے ہیں ہمارے استاد

    توڑ دیتے ہیں جہالت کے اندھیروں کا طلسم

    علم کی شمع جلاتے ہیں ہمارے استاد

    منزل علم کے ہم لوگ مسافر ہیں مگر

    راستہ ہم کو دکھاتے ہیں ہمارے استاد

    زندگی نام ہے کانٹوں کے سفر کا لیکن

    راہ میں پھول بچھاتے ہیں ہمارے استاد

    دل میں ہر لمحہ ترقی کی دعا کرتے ہیں

    ہم کو آگے ہی بڑھاتے ہیں ہمارے استاد

    سب کو تہذیب و تمدن کا سبق دیتے ہیں

    ہم کو انسان بناتے ہیں ہمارے استاد

    ہم کو دیتے ہیں بہر لمحہ پیام تعلیم

    اچھی باتیں ہی بتاتے ہیں ہمارے استاد

    خود تو رہتے ہیں بہت تنگ و پریشان مگر

    دولت علم لٹاتے ہیں ہمارے استاد

    ہم پہ لازم ہے کہ ہم لوگ کریں ان کا ادب

    کس محبت سے بڑھاتے ہیں ہمارے استاد

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY