ہولی اور ہندوستان

عرش ملسیانی

ہولی اور ہندوستان

عرش ملسیانی

MORE BYعرش ملسیانی

    اک طرف راحت کا اور فرحت کا کال

    اک طرف ہولی میں اڑتا ہے گلال

    اک طرف یاروں کی عشرت کوشیاں

    اک طرف ہم اور حال پر ملال

    اک طرف دور شراب آتشیں

    اک طرف تلچھٹ کا ملنا بھی محال

    دیکھتے ہیں تجھ کو جب اٹھتی ہے ہوک

    آہ اے ہندوستاں اے خستہ حال

    رحم کے قابل یہ بربادی تری

    دید کے قابل یہ تیرا ہے زوال

    کس قدر خوں ریز ہے کتنا قبیح

    تیری مسجد اور مندر کا سوال

    اف ترے بیٹوں کی رزم آرائیاں

    آہ ان کے باہمی جنگ و جدال

    اپنے فرزندوں کے یہ اطوار دیکھ

    دیکھ یہ لعنت کے قابل چال ڈھال

    کس قدر ذلت کے دل دادہ ہیں یہ

    بے کمالی میں ہیں کتنے با کمال

    سینۂ تہذیب پر ہے پنجہ زن

    دین کے جھگڑوں میں ان کا اشتعال

    دامن اخلاق پر دھبا ہے ایک

    ان کی وحشت خیزیوں کا اتصال

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Arsh (Pg. 253)
    • Author : Arsh Malsiyani
    • مطبع : Ali Imran Chaudhary

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY