ہوک

خورشید رضوی

ہوک

خورشید رضوی

MORE BY خورشید رضوی

    جب کتابوں کے نوشتوں سے پھسل کر

    مری درماندہ نگاہ

    چار سو پھیلے ہوئے صفحۂ ایام پہ جا پڑتی ہے

    دل میں اک ہوک سی اٹھتی ہے

    ابھر آتے ہیں دکھتے ہوئے جاں کاہ سوال

    پھر اسی ہوک کے لہجے میں خدا بولتا ہے

    زندگانی کی کڑی شرطیں ہیں

    یہ عبادت ہے تمہاری کہ مرے بخشے ہوئے دکھ جھیلو

    ان پرندوں کا، بہائم کا تصوف دیکھو

    کیسے منقار شکستہ طائر

    دانے دانے کو ترس جاتا ہے دانوں میں گھرا

    مشت پر خاک میں ڈھل جاتی ہے رفتہ رفتہ

    جان کھو دینے کے بے زار ارادے کے بغیر

    کسی شکوے کے بغیر''

    اور یہ مجھ سے بڑا درس سمجھ میں نہیں آتا میری

    کس لیے اس کی مشیت نے کیا دکھ پیدا

    سوچتا ہوں تو ڈھلک آتے ہیں اشکوں میں سوال

    ہے مری سوچ مرے اپنے لیے ایک عذاب

    اس پہ عائد ہی نہیں میرے سوالوں کا جواب

    مآخذ:

    • Book : imkaan (Pg. 63)
    • Author : khurshiid rizavii
    • مطبع : haji hanif printer lahore (2012)
    • اشاعت : 2012

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY