عید

MORE BYمحمد اسد اللہ

    دلوں میں پیار جگانے کو عید آئی ہے

    ہنسو کہ ہنسنے ہنسانے کو عید آئی ہے

    مسرتوں کے خزانے دیئے خدا نے ہمیں

    ترانے شکر کے گانے کو عید آئی ہے

    مہک اٹھی ہے فضا پیرہن کی خوشبو سے

    چمن دلوں کا کھلانے کو عید آئی ہے

    خوشا کہ شیر و شکر ہو گئے گلے مل کر

    خلوص دل ہی دکھانے کو عید آئی ہے

    اٹھا دو دوستو اس دشمنی کو محفل سے

    شکایتوں کے بھلانے کو عید آئی ہے

    کیا تھا عہد کہ خوشیاں جہاں میں بانٹیں گے

    اسی طلب کے نبھانے کو عید آئی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY