این نکتہ کہ ہستم من

محمود ایاز

این نکتہ کہ ہستم من

محمود ایاز

MORE BYمحمود ایاز

    دلچسپ معلومات

    (شب خون، الہ آباد)

    تم نے مجھ سے

    کوئی اقرار‌‌ رفاقت نہ کیا

    یہ نہ کہا

    تم سے بچھڑ جاؤں تو زندہ نہ رہوں

    میں نے تمہیں

    زیست کا سرمایہ

    مرا حاصل یک عمر‌ تمنا نہ کہا

    اس قدر جھوٹ سے دہشت زدہ تھے ہم

    کہ کوئی سچ نہ کہا

    میں نے بس اتنا کہا

    دیکھو ہم اور تم اس آگ کا حصہ ہیں

    جو خاشاک کی مانند جلاتی ہے ہمیں

    تم نے بس اتنا کہا

    دیکھو اس آگ میں ہم دونوں اکیلے بھی ہیں

    ساتھی بھی ہیں

    اور ہم کرتے رہے عمر مہ و سال کے زخموں کا شمار

    کہکشاں پھیکی ہے کچھ دیر کا مہمان ہے چاند

    ڈوبتی رات میں ڈھلتے ہوئے سائے چپ ہیں

    میری شریانوں میں یخ بستہ لہو حیراں ہے

    اولیں قرب کی یہ آنچ کہاں سے آئی

    اجنبی کیسے کہوں

    تم تو مرے دل کے نہاں خانے میں سوئے ہوئے ہر خواب کا چہرہ نکلے

    مأخذ :
    • کتاب : 1971 ki Muntakhab Shayri (Pg. 22)
    • Author : Kumar Pashi, Prem Gopal Mittal
    • مطبع : P.K. Publishers, New Delhi (1972)
    • اشاعت : 1972

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY