علم کا مقام

شوکت پردیسی

علم کا مقام

شوکت پردیسی

MORE BYشوکت پردیسی

    آؤ بچو تم کو بتائیں

    آنکھوں دیکھا حال سنائیں

    ہم نے اس دنیا میں رہ کر

    کیسا کیسا دیکھا منظر

    گرمی دیکھی سردی دیکھی

    تیزی دیکھی نرمی دیکھی

    بادل دیکھا پانی دیکھا

    دریا کی طغیانی دیکھا

    کیلا دیکھا آم بھی دیکھا

    پستہ اور بادام بھی دیکھا

    رنگ برنگے پھول بھی دیکھے

    ہرے گلابی نیلے پیلے

    عمر کی صبح شام بھی دیکھا

    تکلیف و آرام بھی دیکھا

    مزدوروں کی محنت دیکھی

    ان کی قدر و قیمت دیکھی

    بے کاروں کا رونا دیکھا

    وقت کو اپنے کھونا دیکھا

    اور نہ پوچھو کیا کیا دیکھا

    چلتا پھرتا پیسہ دیکھا

    پیسہ ہے اک ایسی طاقت

    جس میں ہے دنیا کی عظمت

    جاہل کو بھی عاقل کو بھی

    ناقص کو بھی کامل کو بھی

    پیسے کا دم بھرتے دیکھا

    جھوٹ کو بھی سچ کرتے دیکھا

    لیکن دولت سے بھی بڑھ کر

    ہم نے دیکھا ہے وہ گوہر

    پیسے پر بھی راج ہے جس کا

    پیسہ بھی محتاج ہے جس کا

    جس کی ہے دنیا بھی سائل

    جس کا ہے پیسہ بھی قائل

    جس نے سب کو شاد کیا ہے

    پیسے کو ایجاد کیا ہے

    جس کی بدولت آگے بڑھ کر

    آدمی پہنچا چاند کے اوپر

    اس گوہر کا نام ہے پیارا

    اس کا سارا کام ہے پیارا

    علم اسے کہتے ہیں جہاں میں

    عظمت جس کی کون و مکاں میں

    علم ہے دنیا کی سچائی

    دور ہوئی ہے اس سے برائی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے