پندرہ اگست

اویس احمد دوراں

پندرہ اگست

اویس احمد دوراں

MORE BYاویس احمد دوراں

    دلچسپ معلومات

    ،6جولائی1962 مطبوعہ:ہماری زبان ،

    اے لیلیٔ جمہوریت

    اے دلبر ہندوستاں

    تجھ سے فروغ شمع شب

    محفل میں لو کی ابتدا

    اہل وفا کے دیس میں

    تاریخ نو کی ابتدا

    ظلمت بد اماں خاک پر

    سورج کی ضو کی ابتدا

    ہر لب پہ تیری داستاں

    زلفیں تری عنبر فشاں

    اے دلبر ہندوستاں

    تو اپنے دست ناز میں

    اک خوش نما پرچم لئے

    اپنے جلو میں نو بہ نو

    خوشیوں کا اک عالم لئے

    منزل کے راہی کے لئے

    اک رو لئے اک رم لئے

    ہنستی ہوئی گاتی ہوئی

    آواز سی دیتی ہوئی

    سنگیت کی ہر تان میں

    درس عمل دیتی ہوئی

    بن کر امنگوں کا نشاں

    آئی ہمارے درمیاں

    اے دلبر ہندوستاں

    اب جگمگاتی راہ ہے

    اور رہروؤں کے قافلے

    اب تیز ہیں سب کے قدم

    اب مٹ رہے ہیں فاصلے

    اب زندگی ہے وجد میں

    اب جاگتے ہیں ولولے

    تھک کر کوئی سوتا نہیں

    اب پیڑ کے سائے تلے

    نغمات آزادی کی دھن

    کتنی جنوں انگیز ہے

    اب نشۂ مے ہے سوا

    اب ساز کی لے تیز ہے

    اب روح کو حاصل یہاں

    صد عشرت پرویز ہے

    مسرور ہیں پیر و جواں

    اے دلبر ہندوستاں

    تیری حد شاداب میں

    گنگ و جمن آباد ہیں

    کہسار کے ہیں سلسلے

    دشت و دمن آباد ہیں

    اہل یقیں آباد ہیں

    ارباب فن آباد ہیں

    مہتاب اور تارے لئے

    نیلے گگن آباد ہیں

    جنت نشاں کشمیر کے

    رنگیں چمن آباد ہیں

    جو ہیں ہماری آبرو

    ہیں جمن کے ہم سب پاسباں

    اے دلبر ہندوستاں

    آ ہم ترے آنچل تلے

    پرچم ترا اونچا کریں

    تیری حفاظت کے لئے

    سیف و قلم یکجا کریں

    تجھ کو بنائیں کامراں

    اے دلبر ہندوستاں

    مفہوم آزادی ہے کیا

    نور سحر کی جستجو

    کیا ہے متاع حریت

    انساں کے دل کی آرزو

    صد آفریں بر دور مے

    آزاد ہیں جام و سبو

    آزاد ہے پائل کی دھن

    آزاد ہے زلفوں کی بو

    آزاد ہے سوز جگر

    آزاد ہے دل کا لہو

    آزاد ہے ذوق سفر

    آزاد ہے جینے کی خو

    جائے نہ کیوں دل کی لگن

    محفل بہ محفل کو بہ کو

    صد مرحبا پوری ہوئی

    وہ حسرت کیف نمو

    جس کے سبب برباد تھا

    صدیوں سے اپنا کارواں

    اے دلبر ہندوستاں

    تو ظلمتوں کے سیل میں

    شمع فروزاں بن گئی

    شب تاب افق پر ہند کے

    نور درخشاں بن گئی

    وادیٔ نکہت بیز میں

    جوئے خراماں بن گئی

    خوشبو سے جس کی چار سو

    وہ زلف جاناں بن گئی

    دل کا سکوں آرام جاں

    اے دلبر ہندوستاں

    مأخذ :
    • کتاب : Lamhon Ki Aawaz (Pg. 57)
    • Author : Owais Ahmad Dauran
    • مطبع : label litho press Ramna Road Patna-4 (1974)
    • اشاعت : 1974

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY