انتظار

MORE BYمخدومؔ محی الدین

    رات بھر دیدۂ نمناک میں لہراتے رہے

    سانس کی طرح سے آپ آتے رہے جاتے رہے

    خوش تھے ہم اپنی تمناؤں کا خواب آئے گا

    اپنا ارمان برافگندہ نقاب آئے گا

    نظریں نیچی کیے شرمائے ہوئے آئے گا

    کاکلیں چہرے پہ بکھرائے ہوئے آئے گا

    آ گئی تھی دل مضطر میں شکیبائی سی

    بج رہی تھی مرے غم خانے میں شہنائی سی

    پتیاں کھڑکیں تو سمجھا کہ لو آپ آ ہی گئے

    سجدے مسرور کہ معبود کو ہم پا ہی گئے

    شب کے جاگے ہوئے تاروں کو بھی نیند آنے لگی

    آپ کے آنے کی اک آس تھی اب جانے لگی

    صبح نے سیج سے اٹھتے ہوئے لی انگڑائی

    او صبا! تو بھی جو آئی تو اکیلی آئی

    میرے محبوب مری نیند اڑانے والے

    میرے مسجود مری روح پہ چھانے والے

    آ بھی جا، تاکہ مرے سجدوں کا ارماں نکلے

    آ بھی جا، تاکہ ترے قدموں پہ مری جاں نکلے

    مآخذ
    • کتاب : Kulliyat-e-Makhdum Muhi-ud-din (Pg. 112)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY