اسفنج کی اندھی سیڑھیوں پر

رئیس فروغ

اسفنج کی اندھی سیڑھیوں پر

رئیس فروغ

MORE BYرئیس فروغ

    مجھے اس جنریٹر کی تلاش ہے

    جو سیاروں کو بجلی سپلائی کرتا ہے

    اور جس کے کرنٹ سے میرے سیل روشن ہوتے ہیں

    میں نے ایک آدمی کے ماتھے پر

    غرور سجادگی کے گلاب دیکھے

    وہاں چھوٹی اینٹوں کی دیوار پر اسم سیادت چمکتا ہے

    پھر ہوا نے ٹین کی چادریں گردنوں پر پھینکیں

    مائیں نیند سے لڑنے لگیں

    باپ آنگن کو پرواز سے روکتے رہے

    اور زمین کے نیچے مایا کی دیگیں سرکتی رہیں

    بکریوں نے شور کیا

    پہلوٹی والا دو

    پہلوٹی والا دو

    وہ دیکھو اسفنج کی اندھی سیڑھیوں پر

    ناخن کے بعد ناخن

    سفر سفر سفر

    گھومتے ہوئے پہیے

    ٹوٹتے ہوئے بریک

    ایک انچ میں ہزار انچ غبار

    اور اسکول یونیفارم

    ہم گیئر بدلنے سے پہلے ہی

    ڈینجر زون میں کیوں داخل ہو جاتے ہیں

    بوڑھا ڈرائیور سوچتا ہے

    رانوں کے کراس پر چہرے کی ہڈی کس خطرے کا نشان ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY