مشورہ

کفیل آزر امروہوی

مشورہ

کفیل آزر امروہوی

MORE BY کفیل آزر امروہوی

    کسی کی یاد ستاتی ہے رات دن تم کو

    کسی کے پیار سے مجبور ہو گئی ہو تم

    تمہارا درد مجھے بھی اداس رکھتا ہے

    قریب آ کے بہت دور ہو گئی ہو تم

    تمہاری آنکھیں سدا سوگوار رہتی ہیں

    تمہارے ہونٹ ترستے ہیں مسکرانے کو

    تمہاری روح کو تنہائیاں عطا کر کے

    یہ سوچتی ہو کہ کیا مل گیا زمانے کو

    گلہ کرو نہ زمانے کی سرد مہری کا

    کہ اس خطا میں زمانے کا کچھ قصور نہیں

    تمہارے دل نے اسے منتخب کیا کہ جسے

    تمہارے غم کو سمجھنے کا بھی شعور نہیں

    تم اس کی یاد بھلا دو کہ بے وفا ہے وہ

    ہر ایک دل نہیں ہوتا تمہارے دل کی طرح

    تم اپنے پیار کو رسوا کرو نہ رو رو کر

    تمہارا پیار مقدس ہے بائبل کی طرح

    اب اس کے واسطے خود کو نہ یوں تباہ کرو

    اب امتحاں کی تمنا سے فائدہ کیا ہے

    وہ آسماں کہ جسے تم نہ چھو سکو گی کبھی

    اس آسماں کی تمنا سے فائدہ کیا ہے

    مآخذ:

    • Book: Dhoop Ka Dareecha (Pg. 45)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites