تاج محل

محشر بدایونی

تاج محل

محشر بدایونی

MORE BYمحشر بدایونی

    دلچسپ معلومات

    تاج محل پر پہلی نظم

    اللہ میں یہ تاج محل دیکھ رہا ہوں

    یا پہلوئے جمنا میں کنول دیکھ رہا ہوں

    یہ شام کی زلفوں میں سمٹتے ہوئے انوار

    فردوس نظر تاج محل کے در و دیوار

    افلاک سے یا کاہکشاں ٹوٹ پڑی ہے

    یا کوئی حسینہ ہے کہ بے پردہ کھڑی ہے

    اس خاک سے پھوٹی ہے زلیخا کی جوانی

    یا چاہ سے نکلا ہے کوئی یوسف ثانی

    گلدستۂ رنگیں کف ساحل پہ دھرا ہے

    بلور کا ساغر ہے کہ صہبا سے بھرا ہے

    آغوش تجلی میں نظر سوئی ہوئی ہے

    یا شام کے زانو پہ سحر سوئی ہوئی ہے

    یا بر لب جمنا کوئی دوشیزہ نہا کر

    بیٹھی ہے تکلف سے اداؤں کو چرا کر

    ٹھہری ہوئی یا حسن کے مرکز پہ نظر ہے

    یا وقت کے ہاتھوں میں گریبان سحر ہے

    یا کوئی بط مست ہے جو تیر چکی ہے

    آ کر ابھی دریا کے کنارے پہ رکی ہے

    یا نور کا ٹیکا کوئی ساحل کی جبیں پر

    یا عالم بالا اتر آیا ہے زمیں پر

    یا حسن کے اقبال کا چمکا ہے ستارا

    نکھری ہوئی چاندی ہے کہ ٹھہرا ہوا پارا

    حوضوں کے خزانے ہیں کہ بکھرے سے پڑے ہیں

    پہرے پہ نگہبان ہیں یا سرو کھڑے ہیں

    یا تاج قرینے سے ابھی رکھ کے زمیں پر

    سویا ہے کوئی بادشہ وقت یہیں پر

    تصویر لئے لیتا ہے ہر حوض کا پانی

    گویا کہ جوانی کے مقابل ہے جوانی

    قدرت نے اسے اوج دیا خاک پہ لا کے

    یہ سادہ سا موتی تھا خزانے میں خدا کے

    ہے تخت تو موجود سلیماں کی کمی ہے

    جنت کا دریچہ تو ہے رضواں کی کمی ہے

    یہ گل کدہ کہئے جسے فردوس کا خاکہ

    ہے دفن یہیں خاک میں سرمایہ وفا کا

    گوشے میں اسی قصر کے دو دل ہیں ہم آغوش

    شعلے ہیں مگر مصلحت وقت سے خاموش

    اس خواب میں ان کو نہیں خود اپنی خبر تک

    اک نور اڑا جاتا ہے پرواز نظر تک

    نظروں میں ابھی تک وہی دلچسپ سماں ہے

    آنکھوں میں مری خواب گہ شاہجاں ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Mahshar Badayuni (Pg. 927)
    • Author : Mehshar Badayuni
    • مطبع : Alhamd Publication, Lahore (2012)
    • اشاعت : 2012

    موضوعات :

    related content

    نظم

    اک شہنشاہ نے بنوا کے۔۔۔۔

    اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل

    شکیل بدایونی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY