جان کے عوض

تنویر انجم

جان کے عوض

تنویر انجم

MORE BYتنویر انجم

    بچہ لالٹین کی روشنی میں پڑھ رہا ہے

    بوڑھا اپنی دعائیں بانٹ رہا ہے

    مجھے تمہارے الزام پر اپنی صفائی پیش کرنا ہے

    کوئی کہتا ہے

    الفاظ میری گرفت سے باہر ہیں

    سوچ میری گرفت سے باہر ہے

    دل میری گرفت سے باہر ہے

    کوئی کہتا ہے

    میری نگاہیں دیوانی معلوم ہوتی ہیں

    اپنی صفائی پیش کرنا میرے بس سے باہر ہے

    مجھ پر گہرے سمندر میں تیرنے کا الزام ہے

    مجھ پر گھنے جنگل میں راستہ ڈھونڈنے کا الزام ہے

    مجھ پر کڑی دھوپ میں جان دینے کا الزام ہے

    بچہ آج کا سبق پڑھ چکا ہے

    بوڑھا اپنی دعائیں بانٹ چکا ہے

    تم الزام لگا کر کس انتظار میں ہو

    بچے کی لالٹین بجھائی نہیں جا سکتی

    بوڑھے کی دعائیں چرائی نہیں جا سکتیں

    میں اپنے الفاظ

    اپنی جان کے عوض

    بیچ نہیں سکتی

    مآخذ :
    • کتاب : AN EVENING OF CAGED BEASTS (Pg. 218)
    • Author : Asif Farrukhi
    • مطبع : Ameena Saiyid, Oxford University (1999)
    • اشاعت : 1999

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY