جب ہم پہلی بار ملے تھے

فاروق بخشی

جب ہم پہلی بار ملے تھے

فاروق بخشی

MORE BY فاروق بخشی

    جب ہم پہلی بار ملے تھے

    موسم کتنا اجلا تھا

    میں تھا اک آزاد پرندہ

    نیل گگن میں اڑنے والا

    تم بھی اتنے عمر رسیدہ کب تھے

    بالوں میں یہ چاندی کب تھی

    لہجے میں کھنک آنکھوں میں چمک تھی

    بات بات پر زور سے ہنسنا

    عادت میں بھی شامل تھا

    سب کے دکھ سکھ کا حصہ بن جانا

    فطرت میں بھی شامل تھا

    لیکن اب ایسا لگتا ہے

    تم سے بچھڑنے کا پل

    شاید آ پہنچا ہے

    تم سے بچھڑ کر کل میں جب

    اس موڑ پہ پھر واپس آؤں گا

    سارے رستے سب دیواریں اور دروازے

    مجھ سے میرے ساتھ کے بارے میں پوچھیں گے

    رام نارائن اور کیدار بھی

    پھر یہ راز نہ کھولیں گے

    اور مری آنکھوں میں سارا منظر

    دھندلا دھندلا ہو جائے گا

    لیکن میں بیتے لمحوں سے

    پھر اس کو اجلا کر لوں گا

    اور پھر یاد مجھے آئے گا

    جب ہم پہلی بار ملے تھے

    موسم بالکل ایسا ہی تھا

    مآخذ:

    • کتاب : Udas Lamhon Ke Mausam (Poetry) (Pg. 32)
    • Author : Farooq Bakhshi
    • مطبع : Modern Publishing House (2003)
    • اشاعت : 2003

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY