جدید تر

MORE BYاحمد ندیم قاسمی

    تجھ سے اک عمر کا پیماں تھا مگر میرا نصیب

    انقلابات کا محکوم ہوا جاتا ہے

    وہ تصور جو کئی بار نکھارا میں نے

    اتنا موہوم ہے معدوم ہوا جاتا ہے

    تیری آنکھوں میں جگائے تھے ستارے میں نے

    اور چھلکائے تھے گالوں میں حیاؤں کے ایاغ

    کوئی احساس نہ تھا وقت کی گردش کا مجھے

    ورنہ کیا رات سے ملتا نہیں سورج کا سراغ

    اس چکا چوند میں اب تجھ کو پکاروں کیسے

    سیل انوار میں تاروں کا گزر کیا ہوگا

    تہہ دامن جو چراغوں کو چھپائے رکھوں

    سوچتا ہوں کہ پھر انجام سفر کیا ہوگا

    مجھ کو آواز نہ دے وقت کے صحراؤں میں

    میں بہت دور بہت دور نکل آیا ہوں

    میں افق پر بھی نہیں ہوں میں فلک پر بھی نہیں

    میں ترے ماضیٔ مرحوم کا اک سایہ ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY