جلوۂ دربار دہلی

اکبر الہ آبادی

جلوۂ دربار دہلی

اکبر الہ آبادی

MORE BYاکبر الہ آبادی

    سر میں شوق کا سودا دیکھا

    دہلی کو ہم نے بھی جا دیکھا

    جو کچھ دیکھا اچھا دیکھا

    کیا بتلائیں کیا کیا دیکھا

    جمنا جی کے پاٹ کو دیکھا

    اچھے ستھرے گھاٹ کو دیکھا

    سب سے اونچے لاٹ کو دیکھا

    حضرت ''ڈیوک کناٹؔ'' کو دیکھا

    پلٹن اور رسالے دیکھے

    گورے دیکھے کالے دیکھے

    سنگینیں اور بھالے دیکھے

    بینڈ بجانے والے دیکھے

    خیموں کا اک جنگل دیکھا

    اس جنگل میں منگل دیکھا

    برھما اور ورنگل دیکھا

    عزت خواہوں کا دنگل دیکھا

    سڑکیں تھیں ہر کمپ سے جاری

    پانی تھا ہر پمپ سے جاری

    نور کی موجیں لیمپ سے جاری

    تیزی تھی ہر جمپ سے جاری

    ڈالی میں نارنگی دیکھی

    محفل میں سارنگی دیکھی

    بیرنگی بارنگی دیکھی

    دہر کی رنگا رنگی دیکھی

    اچھے اچھوں کو بھٹکا دیکھا

    بھیڑ میں کھاتے جھٹکا دیکھا

    منہ کو اگرچہ لٹکا دیکھا

    دل دربار سے اٹکا دیکھا

    ہاتھی دیکھے بھاری بھرکم

    ان کا چلنا کم کم تھم تھم

    زریں جھولیں نور کا عالم

    میلوں تک وہ چم چم چم چم

    پر تھا پہلوئے مسجد جامع

    روشنیاں تھیں ہر سو لامع

    کوئی نہیں تھا کسی کا سامع

    سب کے سب تھے دید کے طامع

    سرخی سڑک پر کٹتی دیکھی

    سانس بھی بھیڑ میں گھٹتی دیکھی

    آتش بازی چھٹتی دیکھی

    لطف کی دولت لٹتی دیکھی

    چوکی اک چولکھی دیکھی

    خوب ہی چکھی پکھی دیکھی

    ہر سو نعمت رکھی دیکھی

    شہد اور دودھ کی مکھی دیکھی

    ایک کا حصہ من و سلویٰ

    ایک کا حصہ تھوڑا حلوا

    ایک کا حصہ بھیڑ اور بلوا

    میرا حصہ دور کا جلوا

    اوج بریش راجا دیکھا

    پرتو تخت و تاج کا دیکھا

    رنگ زمانہ آج کا دیکھا

    رخ کرزن مہراج کا دیکھا

    پہنچے پھاند کے سات سمندر

    تحت میں ان کے بیسوں بندر

    حکمت و دانش ان کے اندر

    اپنی جگہ ہر ایک سکندر

    اوج بخت ملاقی ان کا

    چرخ ہفت طبقاقی ان کا

    محفل ان کی ساقی ان کا

    آنکھیں میری باقی ان کا

    ہم تو ان کے خیر طلب ہیں

    ہم کیا ایسے ہی سب کے سب ہیں

    ان کے راج کے عمدہ ڈھب ہیں

    سب سامان عیش و طرب ہیں

    اگزبشن کی شان انوکھی

    ہر شے عمدہ ہر شے چوکھی

    اقلیدس کی ناپی جوکھی

    من بھر سونے کی لاگت سوکھی

    جشن عظیم اس سال ہوا ہے

    شاہی فورٹ میں بال ہوا ہے

    روشن ہر اک ہال ہوا ہے

    قصۂ ماضی حال ہوا ہے

    ہے مشہور کوچہ و برزن

    بال میں ناچیں لیڈی کرزن

    طائر ہوش تھے سب کے لرزن

    رشک سے دیکھ رہی تھی ہر زن

    ہال میں چمکیں آ کے یکا یک

    زریں تھی پوشاک جھکا جھک

    محو تھا ان کا اوج سما تک

    چرخ پہ زہرہ ان کی تھی گاہک

    گو رقاصۂ اوج فلک تھی

    اس میں کہاں یہ نوک پلک تھی

    اندر کی محفل کی جھلک تھی

    بزم عشرت صبح تلک تھی

    کی ہے یہ بندش ذہن رسا نے

    کوئی مانے خواہ نہ مانے

    سنتے ہیں ہم تو یہ افسانے

    جس نے دیکھا ہو وہ جانے

    مآخذ
    • کتاب : intekhab-e-sukhan (Pg. 57)
    • Author : Ibne Kanwal
    • مطبع : Kitabi Duniya (2005-2008)
    • اشاعت : 2005-2008

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY